میں نے کہا تم سے امیدِ وفا رکھنا سچ کا ساتھ اُردو شاعری

سچ کا ساتھ اُردو شاعری

اس نے پوچھا مہفومِ غلط فہمی کیا ہے
میں نے کہا تم سے امیدِ وفا رکھنا

کافروں کے درمیان جی سکتا ھوں
‎مگر منافقوں کے درمیان گزارہ نہیں ھوتا


وہ چشمِ مست کتنی خبردار تھی عدم
خود ہوش میں رہی ہمیں بدنام کر دیا!!

نہ بدماش ہیں نہ مرشد ہیں نہ سرکار ہیں
ھم درویش لوگ بس یاروں کے یار ہیں

بِچھڑنے کی اِتنی جلدی تھی اُسے
خُود کو چھوڑ گیا آدھا مُجھ میں


یہاں ہر ایک چہرے پر الگ تحریر لکھی ہے
مری آنکھوں میں آنسو ہیں ابھی کچھ پڑھ نہیں سکتا

اپنا تبصرہ بھیجیں