منزل تیری راستہ تیرا فکر تیری انداز تیرا

((سچ کاساتھ اُردو متفرق شاعری))
تیری تڑپ اور غم تیرا تو دیکھ ساتھ کس کے ہے
تیری آہ تیری صدا تو دیکھ ساتھ کس کے ہے

ایماں کا جو گھمنڈ ہوا ڈبا نہ دے تجھ کو کہیں
تیرا جنوں تیری وفا تو دیکھ ساتھ کس کے ہے

ہزاروں نہ لاکھوں میں تعداد تیری بے شمار
خدا کا دیں جو مٹ رہا تو دیکھ ساتھ کس کے ہے

تیری اذاں محنت تیری یہ جلسے تیرا زور بیاں
اسلام یہاں غالب نہیں تو دیکھ ساتھ کس کے ہے

منزل تیری راستہ تیرا فکر تیری انداز تیرا
قرآن میں جو یہ درج نہیں تو دیکھ ساتھ کس کے ہے

تیرا نفع تیرا ضرر یہ گھر تیرا دکاں تیری
لہو مسلم کا بہ رہا تو دیکھ ساتھ کس کے ہے

بزرگ تیرے اور رہنما تیرا جہاں تیری کہکشاں
گر دل میں بغض باطل نہیں تو دیکھ ساتھ کس کے ہے

تیری تمنا چاہت تیری کشمکش یہ ساری تیری
ہے کہاں بتا منزل تیری تو دیکھ ساتھ کس کے ہے

جو سربکف وہ سربلند تیری بتا ہے کیا خطا
خدا کو تو پسند نہیں یہی تو ہے تیری سزا

اپنا تبصرہ بھیجیں