دو لائن اُردو شاعری

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

ان کے حسن اپنی ضرورت پہ نظر کرتے ہیں
گو خوشامد ہے بری چیز مگر کرتے ہیں

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

جب بھی اس راہ سے گزرو تو کسی دکھ کی کسک
ٹوکتی ھے کہ وہ دروازہ کھلا ہے اب بھی

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

اس میں کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ ھے
یہ بھی کوئی خط ھے کہ محبت سے بھرا ھے

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

یہاں پہ دیکھو ذرا اِحتیاط سے رہنا
مِلے ہیں پہلے بھی اس خاک میں گُلاب بہت

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

اوڑھے ہوئے ہیں کب سے ردائے سراب ہم
ذروں میں دیکھتے ہیں ستاروں کے خواب ہم

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

جسے میں چھوڑ دیتا ہوں پھر اس کو بھول جاتا ہوں
پھر اس کی گلی کی جانب مڑ کے میں دیکھانہیں کرتا

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

اک عرصے کے بعد ملا تو نام بھی میرا بھول گیا
جاتے جاتے جسنے کہا تھا یاد بہت تم آئو گے

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

ھولی بھالی کسی صُورت پہ نہ جانا صاحب
گُل کے پردے میں یہاں خار بہت ملتے ہیں

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

سُنو، پیتم نے ہولے سے کہا تھا کیا، بتاؤ گے؟
جواب آیا، کہا تو تھا مگر وہ بات گہری تھی

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

پوچھا، بتاؤ درد کو چھُو کر لگا ہے کیا ؟
آیا جواب ، پوروں سے رسنے لگا لہو

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

تجھے کیا معلوم محبت ضد ھوتی ھے وحید
بے کار اپنا وقت نہ برباد کیا کر

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

کتنے مردہ خواب پڑے ہیں
میری زندہ آنکھوں میں

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

چلتی ہے اب تو سانس بھی اس احتیاظ سے
جیسے گزر رہی ہو کسی پل صراط سے

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

در و دیوار سن کے روتے ہیں
آہ تم تک مگر نہیں جاتی

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

اک عرصے کے بعد ملا تو نام بھی میرا بھول گیا
جاتے جاتے جسنے کہا تھا یاد بہت تم آئو گے

((سچ کا ساتھ اُردو شاعری))

کمبخت مانتا ہے نہیں دل اسے بھلانے کو
میں ہاتھ جوڑتا ہوں وہ پاؤں پر جاتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں