یاسمین راشد کو مستعفی نہیں ہونے دینگے‘‘

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کیس کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ یاسمین راشد کام جاری رکھیں انہیں مستعفی نہیں ہونے دیں گے۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نجی یونیورسٹیز کی قانونی حیثیت سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں ہوئی۔
دوسران سماعت وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے چیف جسٹس کو بتایا کہ ایک کیس میں آپ کے ریمارکس پر اپوزیشن ان سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو استعفیٰ نہیں دینے دیں گے، آپ اپنا کام ایمانداری سے کرتی رہیں، گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہمارے خلاف بھی مہم چلائی جاتی ہے، کیا ان حالات میں ہم کام کرنا چھوڑ دیں؟ آپ کا پورا کیرئیر بے داغ ہے۔ واضح رہے کہ 6 جنوری کو پی کے ایل آئی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ڈاکٹر یاسمین راشد پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب حکومت میں اہلیت نہیں ہے، نااہلی اور نکما پن اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے، یہ نااہلی ہی ہے کہ پنجاب حکومت سے معاملات نہیں چلائے جا رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں