عمران خان کے دور میں یومیہ 1 ارب کا نقصان ہو رہا ہے‘

سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں کم از کم یومیہ 1 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے،اضافی ٹیکس لگانا عوام کے مفاد میں نہیں۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں شاہد خاقان عباسی نےخدشہ ظاہر کیا کہ حکومت جس رفتار سے قرضے لے رہی ہے مدت پوری کر گئی تو 70 سال کی تاریخ کے قرضوں سے دگنا قرض لے چکی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے پاس مسائل نہیں تھے،اس نے خود پیدا کرلئے،ملک مہنگائی کی زد میں ہے،حکومت میں بیٹھے لوگ بتانے میں ناکام ہیں کہ حکومت کی معاشی پالیسی کیا ہے، 50 لاکھ گھر اور 1 کروڑ نوکریوں پر آج یہ لوگ بات نہیں کرتے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ یہ حکومت آگے جانے کے بجائے ریورس گیئر میں چل پڑی ہے،قیمتوں میں تبدیلی آئی ہے لیکن تھا انتظار جس کا یہ وہ سحر تو نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان، جہانگیر ترین اور اسد عمر کو ایک کمرے میں لے کر بیٹھیں کہ کرنا کیا ہے،مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سوشل میڈیا کوچھوڑنا ہوگا، تھوڑا کام کرنا ہوگا۔
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم نے گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کی، آج ان دونوں کی لوڈشیڈنگ بد ترین شکل میں ملک میں موجود ہے،یہ حکومت سب سے مہنگے ذریعے فرنس آئل کے ذریعے بجلی پیدا کررہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ سے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں کم از کم یومیہ ایک ارب روپے کا نقصان ہورہاہے،ملکی معیشت کو پہنچنے والا نقصان اس کے علاوہ ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے یہ بھی کہا کہ آج کل جے آئی ٹی کا بڑا رواج ہے،ہم مطالبہ کریں گے کہ اس نقصان کے ذمہ داروں کی نشاندہی کے لیے جے آئی ٹی بنائی جائے،میں ملک میں ایل این جی لانے کا ذمہ دار ہوں، نیب نے پوچھنا ہے تو مجھ سے پوچھ لیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم حکومت یا کابینہ پر بہت سے کام ہوتے ہیں،ہم نے کبھی پانچ منٹ سے زیادہ ای سی یل پر بات نہیں کی تھی،اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہیں،ہم نے کسی کو گالی نہیں دینی، ہم صرف ملک کی بہتری چاہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں