بلاول اور مراد علی شاہ کا نام ECL سے نکالنے کا حکم

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ اور ای سی ایل سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو رزداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام خارج کرنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے حکم دیا کہ جہاں جہاں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ہے اس حصے کو ڈیلیٹ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ صرف سیاسی اسکورنگ کے لیے وزیراعلیٰ سندھ اور بلاول بھٹو کو شامل کیا گیا، صرف ڈائریکٹر بن جانے سے کیسے ثابت ہوتا ہے کہ بلاول کسی اسکینڈل میں شامل ہوگئے، والد اور پھوپھی نے کاروبار کیا، بلاول بھٹو فی الوقت معصوم اور کلین ہیں ان کانام کیوں شامل کیا گیا؟ وہ تو اپنی والدہ کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔’
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ کیا جے آئی ٹی لوگوں کو ذلیل کرنے کے لیے بنائی گئی ہے؟ جے آئی ٹی لوگوں کو ذلیل کرنے کے لیے نہیں بنائی گئی، جے آئی ٹی کی تشکیل میں عدالت اور جے آئی ٹی کی بدنیتی شامل نہیں، جمہوریت بہت بڑی رحمت ہے، ہم کسی کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مراد علی شاہ کی عزت نفس مجروح کی جا رہی ہے، دیکھ تو لیتے کہ مراد علی شاہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں۔
سپریم کورٹ نے جعلی اکاونٹس کا معاملہ نیب کو بھیج دیا اور حکم دیا کہ نیب جعلی اکاؤنٹس کے معاملے کی از سر نو تفتیش کرے اور یہ تفتیش 2 ماہ میں مکمل کرے۔جعلی بینک اکاونٹس کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں