لاہور سے چین تک بس سروس کا آغازبس سروس لاہور کو چین کے تاریخی شہر کاشغر سے ملائے گی۔

لاہور سے چین تک بس سروس کا آغاز
لاہور؛چین پاک اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ کے تحت مسافر بس کا آغاز کردیا گیا ہے۔ بس سروس لاہور کو چین کے تاریخی شہر کاشغر سے ملائے گی۔چین پاک اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ کے تحت مسافر بس کا آغاز کیا گیا ہے۔ نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کمپنی (این ایس ٹی این) کے زیر انتظام چلنے والی بس پاکستان کے شہر لاہور کو چین کے تاریخی شہر کاشغر سے ملائے گی۔بس میں دونوں جانب دو دو نشستیں لگائی گئی ہیں۔ پاکستان سے چین کا سفر کرنے والے افراد کے لئے کچھ عرصہ قبل تک ہوائی سفر ہی واحد ذریعہ تھا، تاہم اب زمینی راستہ سے چین کا سفر بھی کیا جا سکتا ہے۔ این ایس ٹی این کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر محمد انور نے کہا ہے کہ اس سلسلے کی ابتدائی بسیں اپنے آزمائشی سفر مکمل کر چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور، اسلام آباد اور گلگت بلتستان کے دلفریب علاقوں سے گزرتی ہوئی یہ بس سوست کے مقام پر سرحد عبور کرکے چین داخل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بس کا ایک طرف کا سفر 36 گھنٹے، جب کہ مجموعی طور پر دو طرفہ سفر تقریبا 72 گھنٹے کا ہے۔ مسافروں کے پاس بس پر سوار ہونے سے قبل ضروری سفری دستاویزات یعنی ویزہ وغیرہ کا ہونا ضروری ہے۔چیف ایگزیکیٹو آفیسر کے مطابق بس سروس کا آغاز کاروباری افراد کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے، ابتدائی دو بسوں میں چین جانے والے زیادہ تر افراد کا تعلق تاجر طبقے سے تھا، جب کہ چین میں پاکستانی طلباء4 کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جو اس بس سے فائدہ اٹھا سکے گی، جب کہ سیاح بھی بس کے سفر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔محمد انور کا مزید کہنا تھا کہ ہماری اولین ترجیح کاروباری افراد ہیں جو پاکستان اور چین کے درمیان سفر کرنا چاہتے ہیں، سی پیک بس کا یکطرفہ کرایہ 13 ہزار جب کہ ریٹرن ٹکٹ 23 ہزار روپے رکھا گیا ہے۔ سی پیک کے روٹ پر چلائی جانے والی بس چین کی ہی ایک کمپنی کی تیارکردہ ہے جس میں ایک وقت میں 36 مسافر سوار ہو سکتے ہیں۔ بس میں دونوں جانب دو، دو نشستیں لگائی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہر بس پر وائی فائی کے علاوہ موبائل فون کو چارج کرنے کی سہولت بھی موجود ہے اور بس میں سکیورٹی کے لئے کیمرے لگائے گئے ہیں اور ایک مسلح محافظ بھی تعینات کیا گیا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سیٹلائٹ کی مدد سے بس کی تقل و حرکت کو بھی سفر کے آغاز سے اختتام تک دیکھا جا سکتا ہے۔ بس پر دوران سفر کسی شخص کو بس میں سوار ہونے یا اسے چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ صرف وہی شخص اس پر سفر کر پائے گا جس کے پاس چائنہ کا ویزہ اور دیگر ضروری سفری دستاویزات مکمل ہوں گی۔ پاکستان اور چین کی حکومتوں نے مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں