مہمند ڈیم پر مذاکرات کامیاب، جنوری میں کام شروع ہوگا

مہمند ڈیم پر مذاکرات کامیاب، جنوری میں کام شروع ہوگا
پشاور؛ضلع مہمند میں مہمند ڈیم کے تعمیر کے حوالہ سے ہونے والا حکومت اور سپری ملا گوری قوم کے درمیان جرگہ کامیاب ہوگیا ہے جس میں ملاگوری مہمند اقوام نے حکومت کو ہر قسم مدد اور قربانی دینے کی پیشکش کر دی۔مہمند اقوام نے حکومت کو ہر قسم تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ڈیم ان کا ایک خواب ہے اور ہر صورت میں قائم ہونا چاہیے۔مہمند اقوام کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ حکومت کو ہر قسم مدد فراہم کریں گے جبکہ ڈیم کے لیے مقامی عوام ہر قسم قربانی کے لیے تیار ہیں۔واضح رہے کہ مہمند ڈٰیم کی زد میں آنے والی 50 فیصد اراضی ملاگوری قبیلے کی ملکیت ہے جبکہ باقی ماندہ 50 فیصد دیگر اقوام کی اراضی ڈیم کی زد میں آئے گی۔حکومت اور ملاگوری قوم کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق زمینوں کا مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا جبکہ ڈیم میں نوکریوں پر مقامی افراد کو ترجیح دی جائے گی۔ علاوہ ازیں دیگر کاروباری افراد کو بھی معاوضہ دیا جائے گا۔واپڈا کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق مہمند ڈیم 6 سال میں مکمل ہوگا اور اس میں 12 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کے صلاحیت ہو گی۔مہمند ڈیم کو منڈا ڈیم بھی کہا جاتاہے۔ یہ دریائے سوات پر 5 کلو میٹر اپ سٹریم منڈا ہیڈ ورکس سے پہلے مہمند ضلع میں تعمیر کیا جائے گا۔ اس ڈیم کا بنیادی مقصد سیلاب سے بچاؤ، زرعی مقاصد کے لئے پانی اور بجلی کا حصول ہے۔یہ واحد منصوبہ ہے جس سے پشاور، چارسدہ، نوشہرہ کو تباہ کن سیلاب سے بچایا جا سکتا ہے۔ مہمند ڈیم سے 2 ارب 86 کرڑو یونٹ سالانہ بجلی پیدا ہوگی جبکہ اس پر 303 ارب سے زائد کا ابتدائی تخمینہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیم پر 24 گھنٹے کام اور زیادہ لیبر لگانے سے اس کی تعمیر کا دورانیہ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں